بھٹکل 2/ مئی (ایس او نیوز) اگر آپ نے وہاٹس ایپ گروپ بنایا ہے تو ہوشیار ہوجائے، آپ بھلے ہی اپنے گروپ میں کوئی غلط بات نہ لکھ رہے ہوں اور نہ ہی کوئی غلط فوٹو پوسٹ کررہے ہوں ، تب بھی آپ کسی بھی وقت قانون کی گرفت میں آسکتے ہیں۔ جی ہاں، ایسا ہی ایک واقعہ بھٹکل میں پیش آیا ہے جو پوری ریاست کرناٹک میں پہلاواقعہ ہے جس میں وہاٹس ایپ گروپ ایڈمن کو کچھ بھی غلط پوسٹ نہ کرنے کے بائوجود گرفتار کیا گیا۔ البتہ ایک دن اور ایک رات جیل میں کاٹنے کے بعد آج منگل کو اُسے ضمانت مل گئی ۔
معاملہ کیا ہے: بھٹکل تعلقہ کے مرڈیشور کے ایک علاقہ ڈوڈا بلسے کے ایک نوجوان کرشنا نائک جو پیشہ سے رکشہ ڈرائیور ہے، نے ڈی بلسے بوائز کے نام سے ایک وہاٹس ایپ گروپ بنایا جس میں اس نے اپنے علاقہ کے لوگوں کو شامل کردیا۔ بتایا گیا ہے کہ کرشنا نائک کا تعلق بی جے پی سے ہے، مگر اس نے یہ نہیں دیکھا کہ جن لوگوں کو وہ شامل کررہا ہے، وہ کس سیاسی پارٹی سے ہے، اس نے اپنے گروپ میں بی جے پی، کانگریس اور دیگراپنے جاننے والے لوگوں کو بھی شامل کردیا۔
15/اپریل کو آنند منجوناتھ نائک نے مرڈیشور پولس تھانہ میں شکایت درج کروائی کہ ڈی بلسے گروپ میں گنیش نائک نے وزیر اعظم نریندر مودی کی فوٹو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے اُسے ننگا دکھاکر پوسٹ کیا ہے اور بالا کرشنا نائک نامی گروپ کے ایک ممبر نے اس فوٹو کی حمایت میں کمینٹ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گنیش نائک اور بالا کرشنا نائک کا تعلق کانگریس سے ہے، جبکہ شکایت درج کرنے والے آنند نائک کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ اس بات کی بھی اطلاع ملی ہے کہ آنند نائک اور گروپ ایڈمن کرشنا نائک دونوں آپس میں گہرے دوست ہیں۔ شکایت کی بنیاد پر پولس نے کانگریس کے دونوں ورکروں گنیش نائک اور بالا کرشنا نائک کے خلاف معاملہ درج کرلیا۔ جس کے بعد پولس نے ایک ہفتہ قبل گنیش نائک کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کردیا، جس کے بعد عدالت نے گنیش نائک کو اُسی وقت ضمانت پر رہاکرنے کا حکم دیا۔
اس موقع پر پولس دوسرے ملزم بالا کرشنا نائک کو تلاش کررہی تھی جو پولس سے چھپتا پھررہا تھا، اس دوران کچھ روز قبل بھٹکل کے کچھ لوگوں نے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور وزیراعظم نریندر مودی کی فوٹو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے اور اُن کی بے عزتی کرنے والا فوٹو پوسٹ کرنے والے کے ساتھ ساتھ اس معاملے سےمنسلک دیگر لوگوں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر کو میمورنڈم پیش کیا۔
پولس کی چھان بین جب آگے بڑھی تو پولس نے گروپ ایڈمن کرشنا نائک کا پتہ لگاتے ہوئے اُسے پیر کے روز گرفتار کرلیا اور عدالت میں پیش کیا۔ بتایا گیا ہے کہ بھٹکل عدالت میں جج چھٹی پر ہونے کی وجہ سے کرشنا نائک کو ہوناور کی عدالت میں پیش کیا گیا، مگر عدالت نے اُس کی ضمانت نامنظور کرتے ہوئے عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ البتہ آج خبر موصول ہوئی کہ آج منگل کو اُس کی ضمانت منظور ہوگئی ہے ۔ اس بات کی بھی اطلاع ملی ہے کہ اُسے ضمانت پر رہا کرانے بھٹکل کے بی جے پی صدرراجیش نائک (جو پیشہ سے وکیل ہیں) خودہوناور عدالت میں موجود تھے۔
بتایا جارہا ہے کہ جب بی جے پی کے ایک ورکر نے کانگریس کے دو لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا تو اُسے اس بات کا گمان ہی نہیں تھا کہ پولس اُس کے دوست (کرشنا نائک) کو بھی گرفتار کرے گی، اسی طرح ایسا بھی بتایاجارہا ہے کہ جن لوگوں نے اے سی کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا تو اُن لوگوں کو بھی پتہ نہیں تھا کہ معاملہ اُلٹا بی جے پی ورکروں پر ہی پڑنے والا ہے۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد بی جے پی ورکروں میں ہی آپس میں ٹھن گئی ہے کہ آخر اتنی چھوٹی سی بات پر پولس تھانہ میں معاملہ درج کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اُدھر دوسری طرف سننے میں آیا ہے کہ مودی کی فوٹو پوسٹ کرنے پر بی جے پی کے کچھ لوگوں نے ہی پولس تھانہ میں شکایت درج کرانے کے لئے کہا تھا، جو چاہتے تھے کہ اس معاملے کو لے کر کانگریس کے لوگوں پر نشانہ بنائیں، مگر یہاں پورا معاملہ اُلٹا پڑ گیا۔
البتہ اس واقعے نے وہاٹس ایپ استعمال کرنے والوں کو چوکنا ضرورکردیا ہے کہ وہ ہوشیاررہیں، اگر کسی کو گروپ میں شامل کرنا ہے تو اس بات کو یقینی بنالیں کہ ممبر غلط مسیج یا غلط فوٹو یا کسی کی دل آزاری کرنے والی وڈیو گروپ میں پوسٹ نہ کریں۔ اگر ایسا ہوا اور کسی نے پولس میں شکایت درج کی تو پھر اسی طرح کا معاملہ آپ کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے۔
اس معاملے میں اس سے قبل شائع شدہ رپورٹ:
بھٹکل:واٹس اپ پر وزیراعظم کی توہین کامعاملہ : گروپ ایڈمن گرفتار